بھٹکل یکم اپریل (ایس او نیوز) انکولہ میں 21 دسمبر 2013 کو ایک صنعت کار آر این نائک کا قتل ہوا تھا جس میں پولس نے12 لوگوں کو گرفتار کیا تھا، اُس میں بینگلور میں رہائش پذیر بھٹکل کا ایک نوجوان رشاد شابندری بھی شامل تھا۔ 30 مارچ 2022 کو بیلگام سیشن کورٹ نے قتل معاملے میں گرفتار 12 لوگوں میں سے9 لوگوں کو قتل کا قصوروار مانا،و ہیں رشاد سمیت تین لوگوں کو اس کیس میں بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کرنے کے احکامات صادر کئے۔ اسی کے تحت پورے آٹھ سالوں تک جیل کی صعوبتیں جھیلنے کے بعدمحمد رشاد شاہ بندری آج جمعہ یکم اپریل کو بھٹکل اپنے گھر پہنچ گیا۔
بنگلور میں بس کی ٹکٹ بُک کرکے اپنے اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے والے رشاد شاہ بندری جو دُرگمبا رشاد سے بھی جانے جاتے ہیں نے ساحل آن لائن سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اُسے مارچ 2014 کو پولس نے انکوائری کے نام پر بلایا تھا، پھر اُسے سیدھے بینگلور سے کاروار لے جایا گیا بعد میں انکولہ میں ہوئے آر این نائک قتل معاملے میں اسے گیارہواں ملزم قرار دے کر جیل میں بندکردیا۔ رشاد نے بتایا کہ وہ بالکل بے قصور تھا، اور اس قتل میں اُس کا کچھ لینا دینا ہی نہیں تھا۔ رشاد نے بتایا کہ انکولہ کے صنعت کار آر این نائک کے قتل میں انڈرورلڈ ڈان بننجے راجا اور اُس کے لوگ ملوث پائے گئے ہیں اور میرا اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، میں بننجے راجا کو جانتا بھی نہیں ہوں، نہ میں کبھی اُس سے ملا ہوں اور نہ ہی میری اُس کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے۔ لیکن بننجے راجا نے جس کا قتل کرایا تھا، اُس کے کئے گئے جرم سے مجھے بھی آٹھ سالوں تک جیل کی صعوبتیں جھیلنی پڑی۔ رشاد نے بتایا کہ پولس نے مجھے گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ میرے پاس موجود میری خود کی رقم بھی ضبط کرلی تھی اور میری ایک ایکٹیوا گاڑی کو بھی اپنی تحویل میں لیا تھا، اب عدالت نے انکولہ پولس کو حکم دیا ہے کہ وہ میرے پاس سے حاصل کی گئی رقم کے ساتھ میری گاڑی بھی مجھے واپس لوٹائے۔ رشا د شاہ بندری نے بتایا کہ چونکہ میں بے قصور تھا، اس لئے مجھے عدالت پر بھروسہ تھا کہ میرے ساتھ انصاف ہوگا، بھلے انصاف ملنے میں کافی تاخیر ہوئی، مگر عدالت نے میرے ساتھ بھرپور انصاف کیا اورمجھے بے قصور قرار دے کر رہائی کے احکامات جاری کئے ۔ رشاد نے بتایا کہ ایڈوکیٹ پدماوتی نے اُس کا کیس لڑا تھا، رشاد نے پدماوتی کا بھی بے حد شکریہ ادا کیا کہ اس کی کوششوں سے ہی وہ باہر آنے میں کامیاب ہوا ہے۔
محمد رشاد نے بتایا کہ آر این نائک کے قتل کے بعد دراصل گرفتار شدگان سبھی 12 لوگوں پر ککوکا (KCOCA) (کرناٹکا کنٹرول آف آرگنائز کرائم ایکٹ) لاگو کیا گیا تھا جس کے تحت ضمانت پر رہائی ممکن نہ ہوسکی، مگر آج صبح جب وہ بھٹکل بندر روڈ، اپنے گھر پہنچے تو ایک قسم کی راحت محسوس کی، رشاد نے بتایا کہ ایک طرف اُس کی زندگی کے آٹھ قیمتی سال جیل میں برباد ہوگئے ، وہیں اس کی گرفتاری پر گھر پر آفت ٹوٹ پڑی، پہلے ان کی ماں انتقال کرگئی پھر بیٹے کی گرفتاری سے پریشان والد کا بھی سایہ اُٹھ گیا، بیوی اور بچوں کا کوئی سہارا نہیں تھا، اکثر دوستوں نے ساتھ چھوڑ دیا، رشتہ دار دور چلے گئے، بہت زیادہ پریشانی ہوئی، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ آٹھ سال بعدعدالت میں ثابت ہوا کہ میں بے قصور ہوں ۔ رشاد نے بتایا کہ 30 مارچ کو عدالت نے اس کی رہائی کے احکامات صادر کئے تھے ، اگلے روز یعنی31 مارچ شام کو اس کو جیل سے رہائی ملی، آج یکم اپریل صبح کی اولین ساعتوں میں وہ بھٹکل اپنے گھر پہنچا۔